تمہارا پیٹ اللہ نہیں بھر سکتا یہ جملہ کہنا کیسا ہے؟


 سوال نمبر 2100

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ زید نے یہ جملہ بولا کہ مال و دولت سے تو تمہارا پیٹ اللہ تعالی بھی نہیں بھر سکتا (معاذاللہ) تو زید پر کیا حکم ہے

اور اس جملہ پر جنہوں نے سر ہلاۓ اور ہنسے ان پر کیا حکم ہے ؟

سائل:- محمد مقصود عالم




وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب 

زید جملۂ مذکورہ کہنے کی وجہ سے یقینا کافر و مرتد ہو گیا  کیوں کہ جملۂ مذکورہ سے صاف صاف نفیِ قدرت باری تعالی ہونا ظاہر ہے اس میں تاویل کی قطعا گنجائش نہیں، زید نے رب تعالٰی کی ایک عظیم صفت یعنی قدرت کے لۓ عجز ثابت کیا ہے کیوں کہ اللہ تعالی کی قدرت ہر ممکن شئ پر ہے اور اللہ تعالی قادر ہے تو بجائے قادر کے اس جملے سے اس کی عاجزی لازم آتی ہے اور عاجزی کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنا کھلی گستاخی و کفر ہے کہ بعض چیزوں کا قدرت الہی سے خارج ہونا مفہوم ہوتا ہے ، جس سے اللہ تعالی کو عجز  لازم ہوتا ہے اور بعض چیزوں سے عاجز ہونا نقص کو لازم ہے اور اللہ تعالی تمام نقص و عیب سے وجوباً ازلاً و ابداً پاک و منزہ ہے ،


جیسا کہ ،مخزن الفرائد الشبیری بحل شرح العقائد النسفی،میں ہے 

"ولا یخرج عن علمه و قدرته شئ لان الجھل بالبعض والعجز عن البعض نقص و افتقار الی مخصص مع ان النصوص القطعیة ناطقة بعموم العلم و شمول القدرة فھو بکل شئ علیم و علی کل شئ قدیر "

ترجمہ 

(اور کوئی شئ اس کے علم و قدرت سے باہر نہیں) کیوں کہ بعض چیزوں سے جاہل ہونا اور بعض چیزوں سے عاجز ہونا نقص ہے اور مخصص کی جانب محتاج ہونے کا موجب ہے ساتھ ہی ساتھ نصوص قطعیہ اس کے علم و قدرت کے عام ہونے پر ناطق ہیں پس وہ ہر شئ کا علم رکھنے والا اور ہر شے پر قدرت والا ہے ،

لان الجھل:- یہ دلیل ہے قول مذکور ،لا یخرج عن علمه، الخ،   کی، کہ بعض چیزوں کا علمِ الہی سے خارج ہونا اس سے اللہ تعالی کے جہل کو مستلزم ہوتا ہے اور بعض چیزوں کا قدرت الہی سے خارج ہونا اس سے اللہ تعالی کے عجز کو مستلزم ہوتا ہے اور اللہ تعالی کا بعض چیزوں سے جاہل ہونا اور بعض چیزوں سے عاجز ہونا نقص کو لازم ہے اور اللہ تعالی تمام نقص و عیب سے پاک و منزہ ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالی کا تعلق تمام چیزوں سے برابر ہے پس اس کا بعض چیزوں کو جاننا اور بعض چیزوں کو نہ جاننا بعض چیزوں پر قادر ہونا اور بعض چیزوں پر قادر نہ ہونا مرجح و مخصص کا محتاج ہے تو لازم آئے گا کہ اللہ تعالی غیر کا محتاج ہو جو اس کے واجب الوجود ہونے کے منافی ہے ،

( جلد اول صفحہ ۱۴۹ ، ۱۵۰ مکتبہ الھدی پبلیکیشنز نئ دھلی )


اور،المستند المعتمد علی المعتقد المنتقد،میں ہے ،

"جھوٹ عجز اور اس جیسے عیوب کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کر کے اس کو دشنام دینے والا کافر ہے اور یوں ہی جو اس کی صفات ذاتیہ جیسے حیات و علم و قدرت سمع و بصر اور کلام میں سے کسی صفت کی نفی کرے ان مذکورہ صفات میں بصیرت حاصل کرنے کے باوجود جیسے یوں کہے کہ اللہ تعالی حیّ نہیں ہے عالم نہیں ہے اور یوں ہی کسی کا یہ کہنا کہ وہ جزئیات کا عالم نہیں ہے یا غیر قادر ، غیر مرید ، غیر متکلم ، غیر سمیع ، غیر بصیر ہے تو وہ بالاتفاق کافر ہے ،

(مترجم و محشی صفحہ ۱۶۵ مکتبہ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی الہند)


اور ، فتاوی تاج الشریعہ، میں ہے ،

" اللہ تعالی ہر عیب و نقص سے وجوباً ازلاً و ابداً منزہ ہے اسے ہر عیب سے منزہ جاننا ضروریاتِ دین سے ہے جو اللہ رب العزت کو کسی عیب سے موصوف جانے منکر تنزیہ و تقدیس باری تعالی ہو ، کھلا کافر اور بے دین ہے ،

(جلد اول صفحہ ۱۶۷ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی الہند)


لہٰذا زید پر توبہ و تجدید ایمان فرض ہے اور اگر بیوی رکھتا ہو تو تجدیدِ نکاح بھی لازم ہے اور جن لوگوں نے سر ہلاۓ اور ہنسے اگر وہ لوگ جملۂ مذکور کو سن کر ہنسے اور سر ہلاۓ تو ان پر بھی توبہ و تجدید ایمان فرض ہے اور اگر بیوی رکھتے ہوں تو تجدید نکاح بھی لازم ہے اور  اگر کلمۂ کفریہ سن کر نہیں ہنسے بلکہ بے اختیاری میں قائل کی حماقت پر ہنسی نکل گئی، یا بلا اختیار آئی ہوئی مطلق ہنسی کے بعد اس پر نادم و شرمندہ ہیں تو حکم کفر لازم نہ ہوگا توبہ کر لیا ہو تو فبھا ورنہ توبہ و استغفار کر لیں!


واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبــــــــــــــــہ 

محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الہند









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney