روزہ کی حالت میں تھوک نگلنا کیسا ہے؟


سوال نمبر 2109

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کیا تھوک نگلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ مہربانی ہوگی۔

(سائل:محمد دلشاد عالم رضوی، بنگال)





وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:

تھوک جب تک منہ میں ہو، اسے نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے ہاں اگر کوئی منہ سے باہر مثلاً ہتھیلی پر تھوک کر پھر منہ میں دوبارہ ڈال کر حلق سے نیچے اتارے، تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور ایسا عام طور پر کوئی نہیں کرتا ہے، البتہ منہ میں تھوک اِکٹھا کرکے نگل جانا ناپسندیدہ عمل(کام) ہے چاہے روزہ ہو یا نہ ہو۔چنانچہ علامہ نظام الدین حنفی متوفی١١٦١ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے لکھا ہے:

ویکرہ للصائم ان یجمع ریقہ فی فمہ ثم یبتلعہ کذا فی الظھیریة۔(الفتاوی الھندیة،١٩٩/١)

   اور آگے لکھا ہے:وان ابتلع بزاق نفسہ من یدہ فسد صومہ ولا تلزمہ الکفارة کذا فی الوجیز الکردری۔

   اور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی١٣٦٧ھ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:دوسرے کا تھوک نگل گیا یا اپنا ہی تھوک ہاتھ پر لے کر نگل گیا روزہ جاتا رہا۔

(بہار شریعت،٩٨٧/١)

   اور آگے لکھتے ہیں:منہ میں تھوک اکٹھا کرکے نگل جانا بغیر روزہ کے بھی ناپسند ہے اور روزہ میں مکروہ۔(بہار شریعت،٩٩٨/١)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:۔

محمد اسامہ قادری

پاکستان،کراچی

جمعرات،١٢/رمضان،١٤٤٣ھ۔١٤/اپریل،٢٠٢٢ء









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney