زوال کے وقت نکاح پڑھانا کیسا ہے؟


سوال نمبر 2128

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں  کہ زوال کے وقت نکاح پڑھانا کیسا ہے 

المستفتی- غلام رسول  رضوی جودھ پور راجستھان



وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

 الجواب بعون الملک الوھاب 

زوال کے وقت بھی نکاح پڑھنا پڑھانا جائز و درست ہے کیونکہ نکاح کے لئے دو مسلمان عاقل و بالغ مرد گواہ اور ایجاب و قبول ضروری ہے اسکے لئے با وضو ہونا یا پاک ہونا شرط نہیں اور ناہی غیر اوقات مکروہہ کا ہونا شرط ہے !

ہاں اوقات مکروہہ میں صرف نماز پڑھنا ناجائز اور تلاوت قرآن مکروہ (تنزیہی) ہے، بقیہ اعمال منع نہیں ! 

حضور سیدی سرکار اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ  جب آفتاب قریب غروب کو پہنچے اور وقت کراہت آئے تو اس وقت قرآن کی تلاوت ملتوی کی جائے اور اذکار الہیہ کئے جائیں کہ آفتاب نکلتے ڈوبتے اور ٹھیک دوپہر کے وقت نماز ناجائز اور تلاوت (قرآن) مکروہ (تنزیہی) ہے۔  (فتاوی رضویہ شریف جلد دوم ص ٣٥٩، مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی پاکستان )


واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبہ 

محمد مدثر جاوید رضوی 

مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج

 ضلع۔  کشن گنج، بہار









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney