جھوٹی قسم دلانا کیسا ہے؟


سوال نمبر 2129

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علماٸے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے زیدہ کو قسم دیا کے اگر تم میرے پاس سوٸی تو تم باپ سے زنا کرو گی پھر زیدہ بھی زید کو قسم دیتی ہے کہ اگر تم میرے پاس سویا تو ماں سے زنا کروگے؟

سائل عبداللہ 



وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:

 اس سے کچھ نہیں ہوگا، البتہ آٸندہ دونوں اس قسم کے بے ہودہ اور فحش کلمات کہنے سے اجتناب کریں، اور یہ قسم ہے ہی نہیں اور بالفرض اگر وہ دونوں ایک دوسرے کو خدا کی قسم دیتے جب بھی قسم نہ ہوتی کیونکہ دوسرے کے قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی ہے، لہٰذا زید اور زیدہ دونوں پر اس کے خلاف کرنے کی صورت میں کفّارہ بھی لازم نہیں ہوگا۔ چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی علیہ الرحمہ متوفی١٣٦٧ھ "فتاوی ہندیہ" کے حوالے سے لکھتے ہیں:دوسرے کے قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی مثلاً کہا تمھیں خدا کی قسم یہ کام کردو تو اس کہنے سے اوس پر قسم نہ ہوئی یعنی نہ کرنے سے کفارہ لازم نہیں ایک شخص کسی کے پاس گیا اوس نے اوٹھنا چاہا اوس نے کہا خداکی قسم نہ اوٹھنا اور وہ کھڑا ہوگیا تو اوس قسم کھانے والے پر کفارہ نہیں۔ 

(بہارِ شریعت،حصہ٩)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:

محمد اُسامہ قادری

پاکستان،کراچی

منگل،٢٣/شوال،١٤٤٣ھ۔٢٥/مئی،٢٠٢٢ء









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney