پرانے قبرستان میں گھر بنانا کیسا ہے؟


 سوال نمبر 2137

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے قبرستان میں جان بوجھ کر یا انجانے میں گھر بنالیا یا قبرستان میں ایک روم چلاگیا تو اب وہ شخص کیاکرے روم توڑدے یا اس میں رہاٸش رہنے دے یا نہیں جواب ارسال فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرماٸیں؟

المستفتی : خادم رٸیس انور ازہری چمپارن




وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب 

اگر وقفی قبرستان ہے تو کسی صورت میں بھی اس پر مکان بنانا جائز نہیں اگر بنا لیا ہے تو اس کو توڑنا لازم ہے ہاں اگر ملکی قبرستان ہے اور مالک کی بغیر اجازت اس میں دفن کردیا گیا تو مالک قبرستان میت کے گھر والوں سے کہے کہ اپنا مردہ نکال لو مالک کو اختیار ہے قبر باقی رکھے یا نہیں اور اگر اس کی اجازت سے مردہ دفن کیا گیا یا اسی نے اپنے گھر کے مردوں کو دفن کیا ہو تو اس صورت میں قبر پر دیوار بنانا یا قبر پر بیٹھنا سونا چلنا پھرنا حرام ہے ہاں اگر قبر کے چاروں طرف دیوار کھڑی کردے اور اوپر چھت ڈال دے اس طرح کے چھت اور قبر کے مابین کچھ فاصلہ رہے تو اب قبر کی چھت پر آنا جانا نماز پڑھنا جائز ہے !


حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں 

" مسلمانوں کا قبرستان ہے جس میں قبرکے نشان بھی مٹ چکے ہیں ہڈیوں کا بھی پتہ نہیں  جب بھی اس کو کھیت بنانا یا اس میں مکان بنانا ناجائز ہے اور اب بھی وہ قبرستان ہی ہے قبرستان کے تمام آداب بجا لائے جائیں "

(بہار شریعت جلد دوم صفحہ ۵۶۶ مکتبہ دعوت اسلامی )



تاج الفقہا حضرت علامہ مفتی محمد اختر حسین قادری دامت برکاتھم القدسیہ فرماتے ہیں !

(موقوفہ قبرستان میں )شادی محل یا مدرسہ تعمیر کرنے والے ظالم و جفا کار مستحق نار و غضب جبار اور اموات مسلمین کو ایذاء پہنچانے والے سخت مجرم و گنہگار ہیں ان پر توبہ و استغفار لازم ہے اور قبور مسلمین پر بنی عمارتوں کو منہدم کر دینا واجب ہے !

(فتاوی علیمیہ جلد دوم صفحہ ۵۲۳ مکتبہ امجدیہ دھلی )


 حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں !

کہ " دوسرے کی زمین میں  بلا اجازتِ مالک دفن کر دیا تو مالک کو اختیار ہے خواہ اولیائے میّت سے کہے اپنا مردہ نکال لو یا زمین برابر کر کے اس میں  کھیتی کرے !

(بہار شریعت جلد اول صفحہ ۸۴۷ مکتبہ دعوت اسلامی )


فتاوی علیمیہ میں ہے 

اگر وہ زمین قبرستان کے لئے وقف نہیں تھی تو اس پر مسجد بنانا جائز ہے البتہ جتنے حصہ پر مسلمانوں کی قبریں ہیں ان کے چاروں طرف نیچے سے دیوار کھڑی کرکے اس پر اس طرح چھت ڈھال دیں کہ چھت کا اوپری حصہ اور مسجد کا فرش ایک برابر ہو جائے اور چھت کا نچلا حصہ قبروں سے نہ ملے بلکہ چھت اور قبروں کے درمیان کچھ جگہ خالی رہے!

جلد دوم صفحہ ۵۰۵ مکتبہ امجدیہ مٹیامحل دھلی



واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبــــــــــــــــہ 

محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الہند









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney