فاقرأواماتیسرمن القرآن" لاصلوۃالابفاتحۃ الکتاب" کا خلاصہ؟


سوال نمبر 2149

 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

قرآن شریف کی آیت کریمہ "فاقرأواماتیسرمن القرآن"

اور حدیث "لاصلوۃالابفاتحۃ الکتاب" میں تضاد ہورہا ہے 

تطبیق کی کیا صورت ہوگی 

نیز یہ بتائیں جب احادیث و قرآن میں تعارض ہو تو کس پر عمل کیا جائے مثال سے بھی واضح فرمائیں

المستفتی محمد ازھر نورانی دولت پور گرنٹ 

گونڈہ


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 الجواب بعون الملک الوہاب

 مذکورہ آیت کریمہ فی السوال کتاب اللہ کے اس عام کی مثال ہے جس میں سے کسی فرد کو بھی خاص نہ کیا گیا ہو اور یہ وہ عام ہے کہ جو عمل کے حق میں خاص کی منزل میں ہوتا ہے اور خاص کا حکم یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے یقینی طور پر اگر اس کے مقابلے میں خبر واحد یا قیاس آ جائے تو اگر دونوں پر عمل کرنا ممکن ہو حکم خاص میں تبدیلی کے بغیر تو ان دونوں پر عمل کیا جائے گا اور اگر ممکن نہ ہو تو کتاب اللہ پر عمل کیا جائے گا اور خبر واحد و قیاس کو چھوڑ دیا جائے گا


 کما قال الامام نظام الدین الشاشی رحمتہ اللہ تعالی علیہ 


و حکم الخاص من الکتاب ( القرآن) وجوب العمل بہ لا محالۃ فان قابلہ خبر الواحد و القیاس فان امکن الجمع بینھما بدون تغییر فی حکم الخاص یعمل بہما و الا یعمل بالکتاب و یترک ما یقابلہ( خبر الواحد و القیاس ) اھ 


اصول الشاشی صفحہ ۶ مطبوعہ مجلس البرکات 


لہٰذا فاقرأوا ما تیسر من القرآن کا عموم چاہتا ہے کہ نماز کا جواز سورہ فاتحہ کے پڑھنے پر موقوف نہ ہو کیونکہ فاقرءوا ما تیسر من القرآن اس تمام کو شامل ہے جو بھی قرآن سے ہو اور حدیث کریمہ لا صلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب کا تقاضہ یہ ہے کہ نماز بغیر سورہ فاتحہ کے نہ ہو ظاہری طور پر آیت کریمہ اور حدیث کے درمیان تعارض مفہوم ہوتا ہے تو ان دونوں کے درمیان تطبیق کی صورت یہ ہے کہ خبر کو نفیئ کمال پر محمول کرتے ہوئے اور مطلق قراءت کو کتاب اللہ سے فرض قرار دیا جائے اور سورہ فاتحہ کو خبر کے حکم سے واجب قرار دیا جائے 


کما قال الامام العلامۃ نظام الدین الشاشی رحمہ اللہ تعالی علیہ . 

"و مثلہ (ای ما مر من امثلۃ العام) نقول فی قولہ تعالیٰ "فاقرأوا ما تیسر من القرآن"

فانہ عام فی جمیع ما تیسر من القران و من ضرورتہ عدم توقف الجواز علی قرأۃ الفاتحۃ و جاء فی الخبر انہ قال(علیہ السلام) لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب فعلنا بہما علی وجہ لا یتغر بہ حکم الکتاب بان نحمل الخبر علی نفی الکمال حتیٰ یکون مطلق القراءۃ فرضا لحکم الکتاب و قراءۃ الفاتحۃ واجبۃ بحکم الخبر"۔ اھ 


اصول الشاشی صفحہ ۹ مطبوعہ مجلس البرکات 



واللہ اعلم 

 ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney