بڑے جانور میں صرف چار لوگ ہی حصہ لیں تو؟


سوال نمبر 2150

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چار لوگ بڑے جانور کی قربانی کریں اور حصے بھی چار ہی ہوں تو کیا قربانی ہو جائے گی

یا پورے سات حصے کرنا ضروری ہے ؟

المستفتی : محمد فہیم رضا پیلی بھیت یوپی 




وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

باسمه سبحانه تعالى وتقدس 

اونٹ یا گائے یا بھینس میں چار لوگوں کو قربانی کرنا جائز ہے بشرطیکہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو ! بڑے جانور میں سات لوگ شریک ہو سکتے ہیں اس سے زائد نہیں کہ قربانی نہیں ہوگی ! اور یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ بڑے جانور کی ایک شخص قربانی کرے یا تین یا پانچ یا سات لوگ شریک ہوں طاق عدد رکھیں ! دو یا چار یا چھ لوگ شریک ہوں تو قربانی نہیں ہوگی یہ محض بے اصل بات ہے ،


حضرت امام برہان الدین ابو الحسین علی بن ابو بکر الفرغانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں!


" وتجوز عن ستة أو خمسة أو ثلاثة، ذكره محمد رَحِمَهُ اللہ في الأصل لأنه لما جاز عن سبعة فعمن دونهم أولى "


اور گائے یا اونٹ کو پانچ چھ یا تین کی جانب سے قربان کرنا بھی جائز ہے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے مبسوط میں اس کو ذکر کیا ہے کیونکہ جب گائے سات آدمیوں کی جانب سے جائز ہے تو اس سے کم میں بدرجہ اولیٰ جائز ہوئی "

( ھدایه اخیرین مترجم جلد چہارم صفحہ ۲۷۵ مکتبہ ادبی دنیا مٹیامحل دھلی )


حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!

" گائے اونٹ میں سات شخص شریک ہو سکتے ہیں یعنی ایک گائے کے سات مساوی حصے ہو سکتے ہیں سات حصے کرنا ضروری نہیں کہ سات سے کم ہوں تو قربانی ہی نہ ہو ! اگر دو یا تین یا پانچ یا چھ سے کیے گئے جب بھی جائز ہے یعنی کوئی حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور زیادہ ہو تو حرج نہیں "

( فتاوی امجدیہ جلد سوم صفحہ ۳۱۳ مکتبہ امجدیہ دھلی )


واللہ تعالی اعلم بالصواب 

کتبــــــــــــــــہ 

محمد معراج رضوی براہی سنبھل یوپی الہند









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney