غسل فرض تھا ہاتھ دھل کے پانی میں ڈال دیا تو کیا حکم ہے؟


سوال نمبر 2165

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص پر غسل فرض تھا لیکن اس نے ہاتھ گٹوں تک دھو رکھے تھے اور اس  نے اس حوض میں ہاتھ ڈال دیا وہ حوض 5000liter پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ، وہ پانی کیسا ہے ہاتھ ڈال دیا تو پانی کیسا  رہا پاک ناپاک ۔اس کو پاک کیسے کرے۔

سائل :- عبد اللہ 




وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

 الجواب بعون الملک العزیز الوہاب

صورت مسؤلہ میں وہ حوض جس میں جنبی نے دھلا ہواہاتھ اس کا پانی پاک ہے اس کو پاک کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ ہاتھ ڈالنے والے نے اتنا ہی ہاتھ ڈالا ہو جتنا دھلا ہوا ہے ورنہ مستعمل ہو جات گا نیر دھلے ہوے ہاتھ کو کار ثواب کے لیے پھر دھونے کی نیت سے تو بھی پانی مستعمل ہو جائے گا 


جیسا کہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں 


جو پانی وضو یا غسل کرنے میں بدن سے گرا وہ پاک ہے مگر اس سے وضو اور غسل جائز نہیں۔ یونہی اگر بے وضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پورا یا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وضو میں دھویا جاتا ہو  بقصد یا بلا قصد دہ در دہ سے کم پانی میں بے دھوبے ہوئے پڑ جائے تو وہ پانی وضو اور غسل کے لائق نہ رہا۔ اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جسم کا کوئی بے دھلا ہوا حصہ پانی سے چھو جائے تو وہ پانی وضو اور غسل کے کام کا نہ رہا ۔ اگر دھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پڑ جائے تو حرج نہیں۔ 


اگر ہاتھ دھلا ہوا ہے مگر پھر دھونے کی نیت سے ڈالا اور یہ دھونا ثواب کا کام ہو جیسے کھانے کے لیے یا وضو کے لیے تو یہ پانی مستعمل ہو گیا یعنی وضو کے کام کا نہ رہا اور اس کو پینا بھی مکروہ ہے ۔ اھ 


 بہار شریعت جلد اول حصہ دوم صفحہ نمبر ۳۳۳ مطبوعہ مکتبہ المدینہ

واللہ اعلم

 ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہانپوری خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney