کم دام میں بیچ کردوسرے کے ہاتھ زیادہ دام میں بیچنا کیساہے؟

 


سوال نمبر 2202

السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ.
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ زید نے بکر سے زمین خریدی جس کی قیمت 14 لاکھ روپے طے ہوئی اب جب زید تھانے سے بل نکلوا کے 14 لاکھ کا اس کے پاس سکنیچر کرنے گئے تو اس نے کہا کہ فلاں شخص 15لاکھ دینا چاہتے ہیں فلاں شخص 16 لاکھ دینا چاہتے ہیں اب بکر زمین دینے سے 14 لاکھ میں انکار کر رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ کوزمین لینا ہے تو آپ کو 16 لاکھ دینا پڑے گا کم زیادہ کر کے زید نے اسے 15 لاکھ دینے کا وعدہ کیا تو بکرکا ایک لاکھ روپے زیادہ لینا اپنے وعدے سے مکرنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرمائیں.
المستفتی :-  محمد گلبہار عالم رضوی اُتردیناجپور بنگال

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
الجواب بعون اللہ و رسولہ
بکر کا زید ایک لاکھ زاٸد لینا سراسر زیادتی و بدعہدی ہے بکر کےاندر اگر غیرت ایمانی ہے تو وہ ایک لاکھ جو معاملاتِ بیع مکمل ہونےکے بعد زید سے حاصل کیےہیں واپس کرے ورنہ بروز حشر حق العبار میں گرفتار ہوکر عذاب جہنم کا مستحق ہوگا!
اولا بیع زید و بکر کےمابین چودہ لاکھ ہی میں طےہوچکی تھی!

علامہ سیدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی١٢٥٢ھ تحریر فرماتےہیں۔۔۔

(ولوالتعاطی من أحدالجانبین}
صورتہ ان یتفقا علی الثمن ثم یأخذالمشتری المتاع و یذھب من غیرتسلیم المبیع فان البیع لازم علی الصحیح حتیٰ لوامتنع احدھما بعدہ اجبرہ القاضی

رد المحتار على الدر المختار ، المجلدالسابع ، کتاب البیوع ، ص ٢٨
{بیروت لبنان}

حضورصدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتےہیں ۔۔۔

بیع تعاطی جو بغیر لفظی ایجاب و قبول کے محض چیز لے لینے اور دیدینے سے ہو جاتی ہے یہ صرف معمولی اشیا ساگ ترکاری وغیرہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ بیع ہر قسم کی چیزنفیس و خسیس سب میں ہوسکتی ہے اور جس طرح ایجاب و قبول سے بیع لازم ہو جاتی ہے یہاں بھی ثمن دیدینے او ر چیز لے لینے کے بعد بیع لازم ہو جائے گی کہ بغیر دوسرے کی رضا مندی کے ردکرنے کا کسی کو حق نہیں! اگر ایک جانب سے تعاطی ہو مثلا چیز کا دام طے ہوگیا اور مشتری چیز کو بائع کی رضا مندی سے اٹھالے گیا اور دام نہ دیا یا مشتری نے بائع کو ثمن ادا کردیا اور چیز بغیر لیے چلا گیا تو اس صورت میں بھی بیع لازم ہوتی ہے کہ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی رد کرنا چاہے تو رد نہیں کرسکتا قاضی بیع کو لازم کردے گا

بہارشریعت ، حصہ١١ ، ص ٦٢٣
{رضوی کتاب گھردھلی}

مذکورہ دلاٸل جلیلہ سےثابت ہوا کہ بیع چودہ لاکھ ہی میں طےہوٸی لہذا بکر کا جاٸز رقم چودہ لاکھ ہی وصول کرنا ہے اس زاٸد لینا ناجاٸز ہے!

اور ناجاٸز طریقے سے کسی کا مال حاصل کرنےکے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوٸیں ہیں!
قرآن مجید میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔۔۔

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ

اور آپس میں ایک دوسرےکا مال  ناحق نہ کھاٶ

کنزالایمان ، سورہ بقرہ ، آیت ١٨٨

اور حدیث شریف میں ہے ناجاٸز طور پر کمائی کرنےوالا صدقہ کرے تو قبول نہیں ہوتا حج کرےقبول نہیں ہوتا اور مرےجو جہنم میں جاۓ

{شعب الایمان}

اور ایسا شخص سماج میں بھی ذلیل و خوار ہوتاہے لوگ کا اعتماد ہٹ جاتاہے حتی کہ کبھی مصاٸب و آلام میں گھرجاتا ہے توکوٸی ساتھ بھی نہیں دیتا یہ دنیاوی رسواٸیاں ہیں اورقبر و حشر کےعذابات وہ تو اللہ ہی جانے (نعوذباللہ)

واللّٰه و رسولہ اعلم

*کتبـــــہ*
*عبیـــداللّٰه حنفــی بریلوی مقـام دھــونرہ ٹانڈہ ضـــلع بریلی شــریف {یوپی}*
٥ صفرالمظفر ٤٤٤١؁ھ بروز اتوار








ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney