یہ کہنا کیسا ہے کہ ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا ہے؟

سوال نمبر 2203
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ کسی ڈاکٹر کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے ہاتھ میں شفاء ہیں ایسا کہنا شرعا کیسا ہے ؟

سائل محمد اطہر الدین عظیمی بہار کھگڑیا پھولتوڑا

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفاء ہے کہنے والا اگر مسلمان ہے تو یہاں شفاء کی نسبت ڈاکٹر کی طرف نسبت مجازی ہے کیونکہ مؤثر حقیقی اور نسبت حقیقی مسلمان اور مومن اللہ تعالی کے لئے مانتا ہے اسلئے اس کا یہ قول ایمانی ہے درست ہے اس میں کوئی قباحت نہیں!
لیکن اگر یہی جملہ بولنے والا کافر و مشرک ہو تو پھر ایسی صورت میں اس کا یہ قول کفری ہوگا اسلئے کہ وہ مؤثر حقیقی اللہ تعالی کو مانتا ہی نہیں اگر مانتا ہو ایمان لاتا، ایمان نہ لانے کی وجہ سے اس کا مؤثر حقیقی اللہ تعالی پر ایمان ہے ہی نہیں اسلئے اس کی یہ نسبت ڈاکٹر کی طرف حقیقی مانی جائے گی اسلئے اس کا یہ قول کفری ہوگا !
اللہ پاک کا ارشاد ہے *وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ* اورجب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔‘‘ *( الشعراء آیت نمبر ٨٠)*


واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ
محمد مدثر جاوید رضوی
مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج
ضلع۔ کشن گنج، بہار









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney