کیا انسان فاعل مختار ہے؟

   سوال نمبر 2205

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

مسئلہ:کیافرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ

۱)کیا اللّٰہ رب العزت کو فاعل مختار کہ سکتے ہیں ؟کیا انسان بھی فاعل مختار ہے ؟

۲) صفات باری تعالیٰ اس کی ذات کے اجزاء ہیں یا کچھ اور ؟

۳) صفات باری تعالیٰ ، اور کلام پاک باری تعالیٰ قدیم ہے یا حادث؟

برائے کرم مدلل جواب سے نوازیں گے، شکریہ

المستفتی: صدام حسین ثقافی رضوی (بہار)


وعلیکم السلام  ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعونہ الملک الوہاب

 انسان فاعل مختار نہیں بلکہ اﷲ عزوجل فاعل مختار ہے اس کا فعل نہ کسی مرجح کا دستِ نگر نہ کسی استعداد کا پابند یہ مقدمہ نظر ایمانی میں تو آپ ہی ضروری و بدیہی۔یفعل اﷲ مایشاء ـ فعال لما یرید  ۔اور اللہ جو چاہے کرے ، جب جو چاہے کرے ، اختیار اسی کو ہے۔ (القرآن الکریم   ۱۴/ ۲۷ ) (القرآن الکریم   ۱۱/ ۱۰۷)

 فلسفی اس کے فاعل مختار ہونے سے کفر و انکار رکھتا ہے مگر الحمد ﷲ کہ افلاک و کواکب اور ان کی حرکات نے اپنے خالق عزوجل کا مختار مطلق ہونا روشن کردیا اور خود فلسفی کے ہاتھوں فلسفی کے منہ میں پتھر دے دیا، 

اس کی تفصیل امام اہل سنت سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے رسالہ مبارکہ الکلمتہ الملھمتہ فی الحکمتہ المحکمتہ  لوھاء فلسفتہ المشئمتہ میں ہے اور یہ رسالہ فتاوی رضویہ جلد ۲۷ میں ہے ـ

۲) اس کی صفتیں نہ عین ہےنہ غیر ـ یعنی صفات اسی ذات ہی کا نام ہو ایسا نہیں اور نہ اس سے کسی طرح کسی نحو وجود میں جدا ہوسکیں ـ یعنی کسی بھی طور پر صفات ـ ذات  سے جدا ہوکر نہیں پائی جا سکتی ـ 

۳)جس طرح اس کی ذات قدیم  ازلی ابدی ہے اس کی صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہے اور مثل دیگر صفات کے کلام بھی قدیم ہے حادث ومخلوق نہیں .(بہار شریعت حصہ اول عقائد ذات باری تعالی )واللہ اعلم بالصواب 

کتبہ

 حقیر عجمی محمد علی قادری واحدی









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney