کسی کو قبلہ وکعبہ کہنا کیساہے؟

 سوال نمبر 2220

لسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسٔلہ۔کے بارے میں کسی کو کعبہ و قبلہ کہنا کیسا ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع ضرور دیں 
محمد شکیل رضا کھوڑ بنی راجوری

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ برکاتہ 
الجواب بعون اللہ الوھاب

 قبلہ کا معنی سمت و جہت ہے یوں ہی اہل عرب کہتے ہیں "قبلۃ المصلی" نمازی کے نماز پڑھنے کی سمت  یعنی کعبہ کہ جس کی طرف لوگ اپنی مہمات میں تعظیما  جھکتے و رجوع کرتے ہیں کہ قبلہ و کعبہ  کلمۂ تعظیمی ہے استاد ؛پیر ، بزرگ، عالم،کے لئے اس طرح کے القاب عظیما لکھے جاتے ہیں کیونکہ تعظیمی جملہ ہے جیساکہ فیروز اللغات میں "قبلہ و کعبہ" کامعنی دیاہے کلمہ تعظیم وتکریم (ص ۹۴۸)
یونہی بعض بندے بعض کو پالتے ہیں تو انہیں مجازا رب کہا گیا ہے جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر چہ بعض بندے بعض بندوں کو ظاہری طور پر کچھ وقت کے لئے کسی قدر پالتے ہیں اس لیے اس کو مجازا رب کہا جاتا ہے جس پر قرآن کریم شاہد ہے " کما ربیانی صغیرا"(تفسیر نعیمی جلد اول صفحہ نمبر 57  مکتبہ رضویہ 510 مٹیا محل دھلی)
لہذا اساتذہ' بزرگوں ' عالموں ' اللہ والوں کو قبلہ و کعبہ کہنے میں کوئی حرج نہیں تعظیما  کہنا جائز ہے اور کہہ سکتے ہیں.واللہ اعلم 
کتبہ
ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف








ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney