کہا تجھے طلاق دیتے ہیں طلاق طلاق توکیاحکم ہے؟

 سوال نمبر 2221

الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اشفاق نے اپنی بیوی روبی سے کہا کہ روبی ہم کو معاف کرنا، ہم تم کو طلاق دیتے ہیں طلاق، طلاق، تیسری طلاق بولنے والا تھا کہ اشفاق کے بھائی نے اشفاق کو تھپڑ مارا، اس کے بعد اشفاق نے لفظِ طلاق نہیں بولا، پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
(سائل:c/o محمد ارمان علی قادری، انڈیا)

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:برتقدیر صدقِ سائل تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں کیونکہ شوہر نے جب پہلی بار اپنی بیوی سے کہا کہ ”ہم تم کو طلاق دیتے ہیں“ اس سے ایک طلاق واقع ہوگئی۔چنانچہ علامہ کمال الدین ابن ہمام حنفی متوفی٨٦١ھ لکھتے ہیں اور ان کے حوالے سے علامہ خیر الدین رملی حنفی متوفی١٠٨١ھ لکھتے ہیں:صیغة المضارع لا یقع بھا الطلاق کما صرح بہ الکمال ابن الھمام الا اذا غلب فی الحال۔[واللفظ للرملی](فتح القدیر،٣٥٤/٣)(الفتاوی الخیریة علی ھامش الفتاوی الحامدیة،٦٦/١)
یعنی،مضارع کے صیغہ سے طلاق نہیں ہوتی ہے جیسا کہ علامہ ابن ہمام علیہ الرحمہ نے تصریح فرمائی ہے مگر جبکہ وہ حال میں غالب ہو۔
   اور پھر جب شوہر نے اسی سے متصل اپنی بیوی کو دو بار لفظِ طلاق کہا تو اس کے ذریعے مزید دو طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، اگرچہ شوہر نے تیسری بار الگ سے اپنی زوجہ کو لفظِ طلاق نہیں کہا ہے، لہٰذا مسمات روبی اپنے شوہر مسمی اشفاق پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے اور اب ان دونوں کا نکاح حلالہ شرعی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے:ہے:فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ۔(البقرة:٢٣٠/٢)
ترجمہ:پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔(کنز الایمان)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان، کراچی
منگل،١٦/صفر،١٤٤٤ھ۔١٣/ستمبر،٢٠٢٢ء








ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney