نوکر کوبلا وجہ چھٹی کرکے تنخواہ لینا کیسا ہے؟

سوال نمبر 2226

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسٔلہ کے بارے میں سرکاری نوکری پر کسی دن چھٹی کرنا یا پھر روز وقت پر نا جانا اور ماہانہ تنخواہ پوری لے لینا ۔۔کیا یہ جاٸز ہے۔
اور ایسے پیسے کا کیا حکم ہے۔۔۔
(سائل کاشف راجوری جموں کشمیر) 
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ 
الجواب بلا عذر شرعی چھٹی کرنا یا وقت پر کام پر ناجانا اور  پوری تنخواہ لینا حرام ہے 
(سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں) ” جوجائز پابندیاں مشروط تھیں ان کا خلاف حرام ہے اوربکےہوئےوقت میں اپنا کام کرنابھی حرام ہے ، اورناقص کام کرکے پوری تنخواہ لینابھی حرام ہے “ {فتاوی رضویہ ج١٩ ص ۵۲۱، رضا فاؤنڈیشن}

 جب ناقص کام کرکے پوری تنخواہ لیناحرام ہےتو کام بالکل نہ کرکے یعنی چھٹی کرکے  پوری تنخواہ حاصل کرنا بدرجہ اولی حرام، اور اس سے حاصل شدہ رقم بھی حرام ہے اور اس کا صدقہ کرنا واجب ہےامام اہلسنت حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ مال حرام جو اس کے پاس ہے اس پر لازم ہے کہ سب تصدق کردے اس میں سے کوئی پیسہ اپنے کھانے پہننے یا کسی اور مصرف میں اسے اٹھانا حرام ہے وہ اگر اسے پاک کرناچاہے تو اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ کسی محتاج کو اگرچہ اس کا کیسا ہی عزیز وقریب ہو اپنا وہ کل مال ایک ایک پیسہ ایک ایک تاربہ نیت تصدق دے دے اس میں سے کچھ اپنے پاس نہ رکھے، اور زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ چند محتاجوں پر اس حساب سے تصدق کرے کہ ہر ایک کو چھپن روپے سے کم کا مال پہنچے پھر جن کو اس نے بطور تصدق دیا ہے وہ اپنی خوشی سے اپنی طرف سے تھوڑا یا بہت جتنا اسے ہبہ کردیں وہ اس کے لئے حلال طیب ہوجائے گا اگرچہ کل دے دیں،  (فتاوی رضویہ شریف جلدنہم ح ۲  ص ۷۶ رضا اکیڈمی)والله تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ
۱۵ صفر المظفر ۱٤٤٤ھجری
۱۳ ستمبر ۲۰۲۲ عیسوی سہ شنبہ








ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney