(گروپ یا ایپس میں 500 سو لگاکر روزانہ 20 روپیہ کمانا کیساہے؟)

(سوال نمبر 2234

 السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
 آپ حضرات کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے کہ ایک گروپ ہے اس میں 500 روپیہ لگائے تو ہر روز 20.15.25.روپیہ آتا ہے ایک مہینے کے بعد 800 روپیہ ملے گا یہ ایک مہینے کا ہے زیادہ روپیہ بھی لگا سکتے ہیں کیا ایسا پیسہ کمانا جائز  ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں مہربانی ہوگی۔                                
محمد سہیل اختر رضوی کشن گنج بہار

وعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 الجواب بعون الملک الوھاب 

یہ فعل سود کے قبیل سے ہے اسلئے اس کا لینا دینا دونوں ناجائز وحرام ہے!سود کے تعلق سے اللہ پاک کا ارشاد ہے:-  "وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا" اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود(الْبَقَرَة ، 2 : 275)

"یٰۤاَیُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَo" اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور  چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر  مسلمان ہو(الْبَقَرَة ، 2 : 278)

ہاں اگر کافر حربی سے لے تو پھر یہ جائز ہے اسلئے کہ کافر حربی اور مسلمان کے درمیان سود نہیں ہوتا  جیساکہ ھدایہ میں ہےلَا رِبوٰا بَیْنَ الْمُسْلِمِ وَالْحَرْبِی“ مسلمان اور حربی کافر کے درمیان سود نہیں ہوتا۔ (ہدایہ آخرین، صفحہ 90) 

نوٹ:جواز وعدم جواز شرع کے اعتبار سے بیان کردیاگیاہے مگر جواز کی ضرورت ہونے پر بھی اس طرح کے گروپ میں رقم لگانے سے بچیں کیونکہ اس طرح لوگ فراڈ کرتے ہیں شروع میں دس بیس پچاس روپیہ دیتے ہیں ساتھ ہی یہ آفر کرتے ہیں کہ جتنے لوگوں کو جوڑوگے منافع بڑھتا رہےگا حتی کہ اس طرح جوڑنے والا ہزار یا اس سے زیادہ بھی کمالیتاہے مگر چند دن کے بعد یہ فراڈ کرنے والے فرار ہوجاتے ہیں جس سے کافی نقصان ہوتاہے مثلا زید  شروع میں گروپ سے جڑا تو وہ کما لےگا مگر اپنے نیچے جسے جوڑتاہے وہ سب یا اکثر نقصان اٹھاتے ہیں اس طرح زید کے ذریعہ کافی لوگوں کا روپیہ برباد ہوجاتا ہے اگر ایسا ہی گروپ ہے تو اس میں رقم لگانا شرعا ناجائز ہے. 

ویسے خود سوچیں یہ رقم دیتاکہاں سے ہے اگر واقعی ایسا ہوتا تو لوگ کارو بار کیوں کرتے بہت پیسہ والے ہیں جو لاکھوں رقم لگاکر گھر بیٹھے دس بیس ہزار روزانہ کمالیتے مگر گروپ والے فراڈ کرتے ہیں اس لئے لوگ اس سے دور رہتے ہیں اس میں اکثر وہی لوگ پھنستے ہیں جو نئے ہوتے ہیں لہذا اس سے دور رہیں اگرچہ گروپ چلانے والے کفار ہی کیوں نہ ہو کیونکہ دوسرے کو نقصان پہونچانا بھی جائز نہیں ہے. واللہ اعلم بالصواب

کتبہ 
محمد مدثر جاوید رضوی
 مقام۔ دھانگڑھا، بہادر گنج 
ضلع۔ کشن گنج، بہار









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney