جو بچہ حلالہ سے پیدا ہو وہ کس کا وارث ہوگا؟

 سوال نمبر 2276

الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ حلالہ سے پیدا ہوا بچہ حلالہ کرنے والے شوہر سے میراث پائے گا یا نہیں جبکہ حلالہ کرنے والا یعنی شوہر ثانی طلاق بھی دے دیا ہو اگرچہ ایک ہی رات کے بعد، اور طلاق کے بعد عورت بھی پہلے شوہر کے پاس جاچکی ہو اور بچہ بھی پہلے شوہر ہی کے پاس رہتا ہو؟
(سائل:احمد رضا، تلشی پور)
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:بلاشبہ وہ بچہ حلالہ کرنے والے شوہر کی وفات کے بعد اس کی وراثت سے ضرور حصہ پائے گا کیونکہ یہ اس کا والد اور وہ اس کا بیٹا ہے لہٰذا دونوں کے مابین نسبی قرابت ہوا اور یہ استحقاقِ وراثت کا سبب ہے۔چنانچہ علامہ محمد بن عبد اللہ تمرتاشی حنفی متوفی١٠٠٤ھ لکھتے ہیں:یستحق الارث برحم۔
(تنویر الابصار مع الدر المختار ورد المحتار،٧٦٢/٦)
یعنی،نسبی رشتہ مستحقِ وراثت ہونے کا سبب ہے۔
   لہٰذا حلالہ کرنے والا شوہر اگرچہ اس بچے کی والدہ یعنی اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہو اور وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس بھی جاچکی ہو اور اگرچہ وہ بچہ پہلے شوہر ہی کے پاس رہتا ہو، جب بھی وہ بچہ اپنے حقیقی والد کی وفات کے بعد اس کے ترکہ سے ضرور حصہ پائے گا کہ یہ سب باتیں وراثت سے محرومی کے اسباب میں سے نہیں ہیں۔چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید سجاوندی حنفی متوفی٦٠٠ھ ”موانعِ ارث“ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:المانع من الارث اربعة الرق، والقتل الذی یتعلق بہ وجوب القصاص او الکفارة، واختلاف الدین، واختلاف الدارین۔ملخصًا
(السراجیة،ص١٥۔١٦)
یعنی، وراثت سے محروم کرنے والے اسباب چار ہیں:غلام ہونا، مُورِث کا قاتل ہونا اور اس سے مراد ایسا قتل ہے جس کی وجہ سے قاتل پر قصاص یا کفارہ واجب ہوتا ہو، دین اور ملکوں کا اختلاف۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان، کراچی
جمعہ،١٧/ربیع الاول،١٤٤٤ھ۔١٤/اکتوبر،٢٠٢٢ء









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney