جنازہ کی دعا امام اور مقتدی سب پڑھ سکتے ہیں؟

سوال نمبر 2288

 الاستفتاء :-السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عرض یہ ہے کہ۔ نماز جنازہ میں مقتدی کو ثناء و درود شریف و دعاء میت پرھنا ہے یا صرف امام صاحب ہی پڑھینگے؟ 
 مستفتی محمد ندیم اختر بلیا یوپی
وعلیکم السلام ورحمة الله و برکاتہ
الجواب مقتدی کو بھی  سب کچھ پڑھنا ہے کیونکہ نمازِ جنازہ میں صرف ذکر و دعاء ہے قرأت قرآن نہیں، جو مقتدی کو پڑھنا منع ہو ،  حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والر رضوان تحریر فرماتے ہیں کہ " مقتدی بھی سب کچھ پڑھیں کہ نماز جنازہ میں صرف ذکر و دعا ہے قرآت قرآن نہیں اور مقتدیوں کو صرف قرآت قرآن ہی منع ہے باقی دعا و اذکار میں وہ امام کے شریک ہیں 
فى الرحمانية فى الطحطاوى يكبرون الافتتاح مع رفع اليدين ثم يقرؤن الثناء ثم يكبرون و يصلون على النبي صلى الله تعالى عليه وسلم ثم يكبرون و يستغفرون للميت ثم يكبرون و يسلمون ولا يرفعون أيديهم فى التكبيرات الثلث ولا قراءة فيها
 رحمانیہ میں ہے 
طحطاوی میں ہے
 کہ کانوں تک ہاتھ لے جانے کے ساتھ تکبیر افتتاح کہیں پھر ثناء پڑھیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں پھر تکبیر کہیں پھر  میت کے لئے استغفار کریں پھر تکبیر کہیں اور سلام پھیریں بعد کی تینوں تکبیروں میں ہاتھ نہ اٹھائیں اور نماز جنازہ میں قرات قرآن نہیں 
خزانة المفتین میں ہے :
  و إن كان الميت غير بالغ فإن الإمام و من خلفه يقولون أللهم اجعله لنا فرطا واجعله لنا ذخرا شافعا و مشفعا
 اگر میت نابالغ ہو تو امام اور مقتدی سب کہیں گے اے اللہ اسے ہمارے لئے آگے جانے والا کردے اور اسے ہمارے لئے ذخیرہ بنا دے اور شفاعت کرنے والا مقبول الشفاعۃ کردے ، 
 فتاوی رضویہ  جلد ۹  صفحہ  ۱۹٤ رضا فاونڈیشن لاہور 
مذکورہ  بالا عبارت  معلوم ہوا کہ  جنازے میں امام و مقتدی دونوں،  ثناء و درود شریف و دعائے مغفرت  پڑھیں ۔
والله تعالیٰ اعلم
کتبہ
محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ 
۲۸ ربیع النور شریف ۱۴۴۴ ھجری
۲۵ اکتوبر ۲۰۲۲ عیسوی سہ شنبہ










ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney