ناپاک آدمی کنواں میں گرگیا توکیا حکم ہے؟

سوال نمبر 2292

 الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ مجھ پر غسل فرض تھا اور میں کنویں میں گرگیا تو اس کیلئے کیا حکم ہے کنواں ناپاک ہوگیا یا نہیں؟
(سائل:محمد خورشید عالم، انڈیا)
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:اگر اس کنویں کی گولائی تقریبا ساڑھے پینتیس ہاتھ یا اِس سے زیادہ ہے تو ناپاک نہ ہوا اور اگر گولائی میں اِس سے کم ہے تو ناپاک ہوگیا ہے بشرطیکہ آپ کے بدن یا کپڑے پر نجاست لگی ہو اور وہ نجاست پانی میں بھی ملی ہو ورنہ نہیں اگرچہ آپ پر غسل فرض تھا کیونکہ جنابت نجاستِ حکمی ہے نہ کہ حقیقی۔چنانچہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی حنفی متوفی١٠٦٩ھ لکھتے ہیں:(لا) ینجس الماء (بوقوع آدمی اذا خرج حیا ولم یکن علی بدنہ نجاسة) متیقنة۔
(نور الایضاح وشرحہ مراقی الفلاح،ص٣٨)
یعنی،آدمی کے کنویں میں گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا ہے جبکہ وہ زندہ نکل آئے اور اس کے بدن پر نجاست لگی ہونا یقینی معلوم نہ ہو۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان، کراچی

منگل،٢٨/ربیع الاول،١٤٤٤ھ۔٢٥/اکتوبر،٢٠٢٢ء


مسائل شرعیہ کے جملہ فتاوی کے لئے یہاں کلک کریں

فتاوی مسائل شرعیہ کے لئے یہاں کلک کریں 









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney