دوران نماز زخم سے پیپ نکلا توکیا حکم ہے؟

سوال نمبر 2293

 السلام علیکم  
حضرت کی بارگاہ ایک سوال  نماز کے دوران   زخم سے پیپ آتا ہے  تو نماز ہو جائے گی یا نہیں ؟ حضرت جواب عطا فر مادیں تحریر میں شکریہ کا موقع دیں
المستفتی ۔۔۔۔ محمد افضل ، رامپور یوپی
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
الجواب بعون الملک الوہاب
اگر زخم سے پیپ وغیرہ جاری رہتاہے حتی ایک نماز کا کامل وقت گھیر لیتا ہے تو ایسا شخص عندالشرع معذور ہے ایسےشخص کےلیے حکم کہ ہر فرض نمازکے وقت میں نیاوضوء کرے اور نماز پڑھے اور اسی وضوء سےاسی وقت میں دیگر نوافل و واجبات بھی اداکرسکتاہے!
اور اگر پیپ رکتا ہے اور اتنےوقت تک کہ  وضوء کرکے نماز ادا کرلےتو ایسا شخص معذور نہیں! لہذا جب رکےجب وضوء کرکےپڑھے!
لہذا پہلی صورت میں ہر فرض نماز پہلے وضوء کرکےاداکرلے!
اور دوسری صورت میں اگر بحالت نماز پیپ نکل کر بہ گیا تو نماز توڑکر وضوءکرکے دوبارہ پڑھے یا پھر بناکرلے مگر اعادہ افضل ہے!
علامہ شیخ محمد علاء الدين الحصكفی ابن الشيخ علی الحنفی متوفّٰی ١٠٨٨ھ تحریر فرماتےہیں۔۔۔
وَصَاحِبُ عُذْرٍ مَنْ بِهِ سَلَسٌ) بَوْلٍ لَا يُمْكِنُهُ إمْسَاكُهُ (أَوْ اسْتِطْلَاقُ بَطْنٍ أَوْ انْفِلَاتُ رِيحٍ ۔۔۔۔إنْ اسْتَوْعَبَ عُذْرُهُ تَمَامَ وَقْتِ صَلَاةٍ مَفْرُوضَةٍ)بِأَنْ لَا يَجِدَ فِي جَمِيعِ وَقْتِهَا زَمَنًا يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي فِيهِ خَالِيًا عَنْ الْحَدَثِ (وَلَوْ حُكْمًا) لِأَنَّ الِانْقِطَاعَ الْيَسِيرَ مُلْحَقٌ بِالْعَدَمِ (وَهَذَا شَرْطُ) الْعُذْرِ (فِي حَقِّ الِابْتِدَاءِ، وَفِي) حَقِّ (الْبَقَاءِ كَفَى وُجُودُهُ فِي جُزْءٍ مِنْ الْوَقْتِ) وَلَوْ مَرَّةً (وَفِي) حَقِّ الزَّوَالِ يُشْتَرَطُ (اسْتِيعَابُ الِانْقِطَاعِ) تَمَامَ الْوَقْتِ (حَقِيقَةً) لِأَنَّهُ الِانْقِطَاعُ الْكَامِلُ.
(وَحُكْمُهُ الْوُضُوءُ) لَا غَسْلُ ثَوْبِهِ وَنَحْوِهِ (لِكُلِّ فَرْضٍ
اگر اسکا عذر یعنی پیشاب زخم سے پیپ وغیرہ پورےوقت کو گھیر لے اس طرح کہ اس پورےوقت میں اتناوقت عذرسےخالی نہ پاۓ کہ وہ وضوءکرکے نماز پڑھلےاگرچہ یہ استعاب حکمی طور پر ہو کیوں کہ انقطاع یسیرعدم کےساتھ ملحق ہےیہ ابتداءعذر ہونےکےحق میں شرط ہےاور بقاءکےحق میں وقت کےکسی حصےمیں اسکاپایا جاناکافی ہےاگرچہ ایک ہی مرتبہ ہو اور عذرکےزوال کےحق میں پورےکوانقطاع کاگھیرنا شرط ہے حقیقتا کیوں کہ یہی انقطاع کامل ہے تو اس کے لیے حکم ہے کہ ہر فرض سے پہلے وضو کرے کپڑا وغیرہ دھونا ضروری نہیں
الدرالمختار شرح تنویرالابصار ، المجلدالاول ، کتاب الطہارة ، ص ٥٠٤ تا ٥٠٥
{بیروت لبنان}
علامہ شیخ ابوبکر بن علی بن الحدادالزبیری متوفی ٨٠٠ھ تحریر فرماتےہیں ۔۔۔
(الْمُسْتَحَاضَةُ) وَمَنْ بِهِ سَلَسُ الْبَوْلِ وَالرُّعَافُ الدَّائِمٌ إلَى آخِرِهِ وَكَذَا مَنْ بِهِ انْفِلَاتُ رِيحٍ وَاسْتِطْلَاقُ بَطْنٍ.قَوْلُهُ:فَيُصَلُّونَ بِذَلِكَ الْوُضُوءِ مَا شَاءُوا مِنْ الْفَرَائِضِ وَالنَّوَافِلِ وَكَذَا النُّذُورُ وَالْوَاجِبَاتُ مَا دَامَ الْوَقْتُ بَاقِيًا
الجوھرة النیرة ، المجلدالاول ، کتاب الطھارة ، ص٩٤
{بیروت لبنان}
اور حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتےہیں ۔۔۔
: ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے ،اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وقت میں وضو کرلے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وضو سے پڑھے، اس بیماری سے اس کا وضو نہیں جاتا، جیسے قطرے کا مرض، یا دست آنا، یا ہوا خارج ہونا، یا دکھتی آنکھ سے پانی گرنا، یا پھوڑے، یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا، یا کان، ناف، پستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وضو توڑنے والی ہیں، ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گزر گیا کہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکاتو عذر ثابت ہوگیا
بہارشریعت ، حصہ٢ ، ص٣٨٥
{مکتبةالمدینة دھلی}
واللہ و رسولہ اعلم 
کتبہ 
عبیداللّٰه حنفی بریلوی مقام دھونرہ ٹانڈہ ضلع بریلی شریف {یوپی}
١٦ربیع النور ۱۴۴۳









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney