مری مرغی کافر کے ہاتھ بیچنا کیساہے؟

 (سوال نمبر 2300)

الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرغی مرجائے تو کافر کو بلا اطلاع دئے بیچ سکتے ہیں؟
(سائل:، انڈیا)
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:بیچ سکتے ہیں کیونکہ ہندوستان کے کفار حربی ہیں لہٰذا ان کا مال ان کی رضامندی سے سوائے دھوکہ کے جس طرح اور جس عقد کے نام سے بھی ملے وہ مسلمان کیلئے طیب و حلال ہے۔چنانچہ امام برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی٥٩٣ھ لکھتے ہیں:ان مالھم مباح فی دارھم، فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم یکن فیہ غدر۔
(الھدایة شرح بدایة المبتدی،١٢٧/٣)
یعنی،کفار کا مال دار الحرب میں مباح ہے لہٰذا اسے سوائے دھوکہ کے جس طریقے سے بھی مسلمان نے لیا اس نے مالِ مباح لیا۔
   اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی١٢٥٢ھ لکھتے ہیں:فی السیر الکبیر وشرحہ:اذا دخل المسلم دار الحرب بامان، فلا باس بان یاخذ منھم اموالھم بطیب انفسھم بای وجہ کان لانہ انما اخذ المباح علی وجہ عری عن الغدر فیکون ذلک طیبا لہ والاسیر والمستامن سواء حتی لو باعھم درھما بدرھمین او باعھم میتة بدراھم او اخذ مالا منھم بطریق القمار فذلک کلہ طیب لہ اھ ملخصا۔
(رد المحتار علی الدر المختار،١٨٦/٥)
یعنی،سیر کبیر اور اس کی شرح میں ہے جب کوئی مسلمان دار الحرب میں امان لے کر داخل ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ حربیوں کا مال ان کی رضامندی سے کسی بھی طریقے سے لے کیونکہ اس نے مالِ مباح ایسے طریقے سے لیا جو کہ دھوکہ سے خالی ہے پس یہ اس کیلئے حلال ہے، قیدی اور مستامن برابر ہیں، یہاں تک کہ اگر کسی نے ان کو دو درہموں کے عوض ایک درہم بیچا یا کچھ درہموں کے عوض مردار بیچا یا جوئے کے ذریعے ان کا مال لے لیا تو یہ سب اس کے لئے حلال ہے۔
   اور صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی١٣٦٧ھ لکھتے ہیں:عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو مثلاً ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپے خریدے یا اُس کے ہاتھ مُردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ سے مسلمان کا روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرنا جائز ہے۔(بہار شریعت،٧٨٠/٢)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان، کراچی
جمعرات،١/ربیع الثانی،١٤٤٤ھ۔٢٧/اکتوبر،٢٠٢٢ء









ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney