غسل میں کلی نہ کیا تو کیا حکم ہے؟

 (سوال نمبر 2312)

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص پر غسل فرض تھا تو اس نے غسل کے دو فرائض انجام نہ دیئے ایک کلی کرنا اور دوسرا ناک میں پانی ڈالنا، تو کیا غسل ہوگیا؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔
(سائل:غلام مرسلین بدایونی)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:شخصِ مذکور کا غسل نہ ہوا کیونکہ کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا دونوں غسلِ جنابت میں فرض ہیں جیسا کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی٥٩٣ھ لکھتے ہیں:فرض الغسل: المضمضة، والاستنشاق، وغسل سائر البدن، وعند الشافعی رحمہ اللہ: ھما سنتان فیہ، لقولہ علیہ السلام: ”عشر من الفطرة“ ای من السنة، وذکر منھا المضمضة والاستنشاق، ولھذا کانا سنتین فی الوضوء. ولنا قولہ تعالیٰ: وان کنتم جنبا فاطھروا، امر بالاطھار، وھو تطھیر جمیع البدن، الا ان ما تعذر ایصال الماء الیہ خارج. بخلاف الوضوء، لان الواجب فیہ غسل الوجہ، والمواجھة فیھما منعدمة. والمراد بما روی حالة الحدث، بدلیل قولہ علیہ السلام: انھما فرضان فی الجنابة سنتان فی الوضوء۔(الھدایة شرح بدایة المبتدی،٧٠/١)

یعنی،غسل کا فرض کلی کرنا ہے، ناک میں پانی ڈالنا ہے اور بقیہ بدن کو دھونا ہے۔ اور امام شافعی علیہ الرحمہ کے نزدیک یہ دونوں غسل میں سنت ہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:دس چیزیں فطرت یعنی سنت میں سے ہیں اور ان میں سے آپ نے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو بھی بیان فرمایا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں وضو میں سنت ہیں۔ ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:اگر تم جنب ہو تو خوب پاک ہو جاؤ یعنی غسل کرو، اللہ تعالیٰ نے اِس آیت کریمہ میں پاکی حاصل کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ تمام بدن کو پاک کرنے کا نام ہے، البتہ جہاں پانی پہنچنا دشوار ہے وہ اس حکم سے خارج ہے، برخلاف وضو کے، کیونکہ وضو میں چہرے کا دھونا فرض ہے اور کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں مواجہت معدوم ہے۔ اور امام شافعی علیہ الرحمہ کی روایت کردہ حدیث سے مراد حدث یعنی بے وضو ہونے کی حالت ہے جس پر دلیل آپ علیہ السلام کا یہ فرمان ہے کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا دونوں غسلِ جنانت میں فرض ہیں اور وضو میں سنت ہیں۔
   ہاں اگر وہ بعد میں ذکر کردہ بقیہ دو فرائض کو پورا کرلے گا اگرچہ وضو کے دوران، تو اس کا غسل ہوجائے گا، از سرے نو پورے غسل کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ پانی کے بڑے بڑے گھونٹ پینے سے بھی کلی کا فرض ادا ہوجاتا ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان، کراچی
پیر،٤/ربیع الآخر،١٤٤٤ھ۔٣١/اکتوبر،٢٠٢٢ء










ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney