سوال نمبر 2315
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بلی کو مارنا شرعا کیسا ہے ؟ اگر وہ نقصان کرے تو ۔
مستفتی محمد رضوان رضا سورت گجرات
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ
الجواب بلی کو مارنا نہ چاہیے مگر جبکہ وہ تکلیف پہنچاتی ہو تو اسے ایذا دے کر مارنے کے بجاٸے تیز چھڑی سے ذبح کردیا جاٸے۔ ۔چنانچہ خاتم المحققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ ھ فرماتے ہیں :والهرة المؤذية لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حاد
ترجمہ: نقصان پہنچا نے والی بلی کو پیٹا نہ جائے اور نہ اس کا کان مروڑا جائے بلکہ تیز دھار چھری سے اسے ذبح کر دیا جائے،
ردالمحتار جلد نہم صفحہ ۵۵۸ كتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء،)
کتبہ:-
محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی غفرلہ
۱۸ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۱۴ نومبر۲۰۲۲ عیسوی دوشنبہ
مستفتی محمد رضوان رضا سورت گجرات
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ
الجواب بلی کو مارنا نہ چاہیے مگر جبکہ وہ تکلیف پہنچاتی ہو تو اسے ایذا دے کر مارنے کے بجاٸے تیز چھڑی سے ذبح کردیا جاٸے۔ ۔چنانچہ خاتم المحققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ ھ فرماتے ہیں :والهرة المؤذية لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حاد
ترجمہ: نقصان پہنچا نے والی بلی کو پیٹا نہ جائے اور نہ اس کا کان مروڑا جائے بلکہ تیز دھار چھری سے اسے ذبح کر دیا جائے،
ردالمحتار جلد نہم صفحہ ۵۵۸ كتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء،)
کتبہ:-
محمد معصوم رضا نوریؔ ارشدی غفرلہ
۱۸ ربیع الثانی ۱۴۴۴ ھجری
۱۴ نومبر۲۰۲۲ عیسوی دوشنبہ
0 تبصرے