مرد کو سینہ وہاتھ کا بال صاف کرنا کیساہے؟

 سوال نمبر2316

السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ۔
الاستفتاء:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرد کو سینے اِسی طرح ہاتھ کے بال مونڈنا کیسا ہے؟
(سائل:محمد طالب علیمی رامپور)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:مرد اپنے ہاتھوں کے بال صاف کرسکتا ہے البتہ سینے کے بال صاف نہ کرنا بہتر ہے لیکن اگر کسی نے کرلئے تو وہ گنہگار نہیں ہوگا۔چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی١٢٥٢ھ لکھتے ہیں:فی حلق شعر الصدر والظھر ترک الادب کذا فی القنیة اھ ط۔
(رد المحتار علی الدر المختار،٤٠٧/٦)
یعنی،سینے اور پیٹھ کے بالوں کو مونڈنے میں ترکِ ادب ہے یعنی بہتر نہیں، اِسی طرح "قنیہ" میں ہے(طحطاوی)۔
   اور اِسی طرح علامہ نظام الدین حنفی متوفی١١٦١ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے "فتاوی ہندیہ" میں "قنیہ" ہی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(الفتاوی الھندیة،٣٥٨/٥)
   اور صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی١٣٦٧ھ لکھتے ہیں:سینہ اور پیٹھ کے بال مونڈنا یا کتروانا اچھا نہیں، ہاتھ، پاؤں، پیٹ پر سے بال دور کرسکتے ہیں۔(بہار شریعت،٥٨٥/٣)واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان،کراچی
ہفتہ،٢٣/ربیع الآخر،١٤٤٤ھ۔١٩/نومبر،٢٠٢٢م











ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney