کیا بغیر خطبہ کے نکاح ہو جائے گا؟

 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
الاستفتاء:کيا فرماتے ہيں علمائے دين ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ بغير خطبہ نکاح کے صرف گواہان کی موجودگی ميں ايجاب وقبول کے ذريعہ نکاح منعقد ھو جائے گا؟ جواب باصواب سے رہنمائی فرمائی جائے۔
(سائل:عبد القدوس قادری، انڈیا)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:نکاح منعقد ہوجائے گا کہ اِس کیلئے خطبہ شرط نہیں ہے۔چنانچہ علامہ ابو الحسین احمد بن محمد قدوری حنفی متوفی٤٢٨ھ لکھتے ہیں:النکاح ینعقد بالایجاب والقبول ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین۔ملخصًا(مختصر القدوری،ص٢٩٢)
یعنی،نکاح ایجاب وقبول کے ذریعے منعقد ہوجاتا ہے اور مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا مگر دو گواہوں کی موجودگی میں۔
   لیکن نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا مستحب ضرور ہے۔چنانچہ علامہ علاء الدین حصکفی حنفی متوفی١٠٨٨ھ لکھتے ہیں:یندب تقدیم خطبة۔ملخصًا(الدر المختار،٨/٣)
یعنی،نکاح سے قبل خطبہ پڑھنا مستحب ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:۔
محمد اُسامہ قادری
پاکستان، کراچی
پیر،٤/ربیع الآخر،١٤٤٤ھ۔٣١/اکتوبر،٢٠٢٢ء











ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے

Created By SRRazmi Powered By SRMoney