سوال نمبر 2686
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ ایک نعتیہ شعر ہے اے زہرا کے بابا سنیں، مدینہ بلا لیجئے یہ شعر اور شاعر کے بارے میں کیا حکم شرع ہے بہت سے مفتیان کرام اسے حرام قرار دیتے ہیں؟
سائل : نور علی، یوسف علی،مرتضی خان،نورانی وغیرھم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں یہ شعر پڑھنا بالکل جائز اور درست ہے مگر احتیاط کرنا اولیٰ ہے بلکہ جب بھی حضور علیہ السلام کو نداء دی جائے تو معظم انداز اور الفاظ سے دی جائے مثلا یا رسول اللہ، یا نبی اللہ، یا شفیع المذنبین،یا رحمۃ للعالمین ،اے جان کائنات، اے حبیب خدا وغیرہ
اکثر علماء کو اعتراض اس بات میں ہے کہ اے زہرہ کے بابا کہہ کر پکارنا حرام ہے کیوں کہ قرآن کریم میں اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا یعنی نبی کریم علیہ السلام کو اس طرح نہ پکارو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو
اس لیئے نبی کریم کو عام الفاظ میں پکارنا حرام ہے اور وہ اس آیت کی تفسیر بھی پیش کرتے ہیں کہ یا محمد، یا ابو القاسم کہہ کر نبی کریم کو پکارنا منع ہے
یہ کچھ نیا نہیں ہے کہ اس پر اعتراض ہو کیوں کہ یہ الفاظ اردو شعراء بہت کم استعمال کیئے ہیں اس لیئے یہ ان کے لیئے نیا ہے اور فی زمانہ ہر نئی چیز کو بغیر سوچے سمجھے بغیر تحقیق کے بغیر پس منظر کو سمجھے حرام قرار دے دیتے ہیں لیکن عربی ادب میں یا ابا زہرہ یعنی اے زہرہ کے بابا یا جد الحسین جیسے الفاظ کا استعمال کوئی معیوب نہ تھا جیسا کہ شیخ احمد رفاعی علیہ الرحمہ نے اپنے دیوان میں لکھا ہے
أَغِثْنِـي يَا أَبَـا الـزَّهْـرا أَغِثْـنِـي
وَأَدْرِكْـنِـي بِمَطْلُـوبِـي أَغِثْـنِـي (قلادۃ الزواہر)
اسی طرح سے مشہور صوفی شاعر عبد الرحیم البرعی علیہ الرحمہ کے دیوان میں جا بجا یا محمد کا استعمال ہوا ہے مثلا
صلی علیک الھی یا محمد ما
تنوعت نغمات الطائر الغرد
اسی طرح سے شیخ رفاعی علیہ الرحمہ کا یہ شعر بھی ملاحظہ ہو
ویا اباالقاسم الغوث الغیاث فقد
ضاقت بنا الارض اقصاھا و ادناھا
اسی طریقے سے ایک اور شعر ملاحظہ ہو
مولای یا جد الحسین المجتبی
من آل فھر یا ابا الزھراء
اسی طرح سے سید محمد بن علوی المالکی علیہ الرحمہ کا یہ شعر ملاحظہ ہو
یا جد الحسنین انت رجائی
وبک استغیث فی کل حین (مجموع قصائد و أناشيد السيد محمد بن علوي المالكي)
اسی طرح سے ملا علی قاری علیہ الرحمہ کا یہ شعر بھی ملاحظہ ہو
یا ابا الزھرہ یا عین الرجاء
ادرک عبد الضعیف المبتلی (الدرر السنية في المدائح النبوية)
امام بوصیری علیہ الرحمہ کا یہ شعر
یا جد الحسین الیک مشتکی
و انت باب اللہ للواصلینا (شرح البردة — زرقاني)
اسی طرح سے ایک اور مشہور شعر ملاحظہ ہو
یا ابا الفاطمۃ ادرکنی
فانی غریق فی بحر الذنوب
اسی طرح سے درجنوں مزید اسلاف کے اشعار پیش کیئے جا سکتے ہیں جس میں انہوں نے یا ابا الزہرہ (یعنی اے زہرہ کے بابا) یا جد الحسین(یعنی اے حسین کے نانا) یا محمد (یعنی اے محمد) کا استعمال کیا ہے
اب اس آیت مبارکہ میں کسی لفظ کا ذکر نہیں ہے کہ اس لفظ سے نا پکارو بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ عامیانہ الفاظ کا استعمال نہ کرو یعنی جس طرح بے تکلف ہو کر کسی عام انسان کو پکارتے ہو اس طرح نبی کی بارگاہ میں بے تکلف نا ہو جاؤ کہ خاطر اقدس پر ملال گزرے یہاں تک نبی کریم کی کنفرٹ کا اس طرح خیال رکھا گیا ہے کہ اونچی آواز میں بات نا کرو وہ اس لیئے نہیں کہ اونچا بولنا معیوب ہے بلکہ اس لیئے نبی کریم کی خاطر اقدس پر ملال نہ گزرے اسی طرح سے ایک صحابی نے کسی کو یا ابا القاسم کہہ کر آواز دی اب چونکہ حضور علیہ السلام کی بھی کنیت ابو القاسم تھی تو حضور علیہ السلام اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس صحابی نے عرض کی کہ میں فلاں شخص کو پکار رہا تھا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت پر نام نا رکھو اس لیئے کہ کہیں کوئی کسی اور کو پکارے اور نبی کریم متوجہ ہو جائیں پھر وہ کہے کہ آپ کو نہیں بلا رہا تھا یہ سخت نا گزیر ہے
یعنی ماحاصل کلام یہ ہے کہ نبی کریم کو اس طرح نہ پکارا جائے کہ آپ کے ادب تعظیم میں کمی آئے اور یہاں شعر میں جو اے فاطمہ کے بابا کہا جا رہا ہے تو بطور توسل کہا جا رہا ہے بطور نداء نہیں یعنی جب فریاد کی جاتی ہے تو کسی عزیر کا واسطہ دیا جاتا ہے تاکہ اس نسبت کے پیش نظر فریاد قبول کر لی جائے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ملتا ہے کہ مجھے کوئی ابو تراب کہے تو یہ زیادہ پسند ہے علی کہنے سے کیوں کہ یہ نبی کریم علیہ السلام کا عطا کردہ ہے تو جب نبی کریم کو ان کے لخت جگر کی طرف نسبت کی جائے تو یہ کتنا محبوب ہوگا جیسا کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے یعنی حضور علیہ السلام حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بہت ہی محبت فرماتے تھے تو جس سے محبت کی جائے اس کی طرف نسبت کر کے پکارنا بھی محبوب ہوتا ہے اور یہ بات اسلاف پر واضح تھی تبھی تو وہ اپنے اشعار میں جد الحسنین اور ابا الزہرہ کا استعمال کیئے اور ملک ہند میں آج بھی دستور ہے کہ والد اپنے اولاد کے ناموں سے پکارا جاتا ہے اور وہ اسے نا معیوب سمجھتا ہے نا اپنی توہین تو وہ لفظ جس کے کہنے سے کسی طرح کی بے ادبی کا شائبہ نا نظر آتا ہو ایسے ہی الفاظ کے استعمال کا حکم قرآن کریم نے دیا
ذہن کو صاف کرنے کے لیئے یہاں ایک اور بات بتا دوں مثلا اگر کسی علاقے میں کوئی لفظ معیوب ہو جیسے کسی علاقے میں آقا کہنا مزاق اور تفریح کے لیئے ہوتا ہو یا کسی کو چھڑانے کے لیئے ہوتا ہو تو اب لفظ آقا کا استعمال بھی بارگاہ نبوی میں جائز نہیں ہوگا جیسے اسلاف کے دور میں مولوی اور ملا یہ معظم الفاظ تھے لیکن فی زمانہ اسے ایک معیوب لفظ سمجھا جاتا ہے یعنی کسی کو ملا کہہ دیا جائے تو اسے برا لگنے لگتا ہے تو ایسے الفاظ کے استعمال سے بچا جاتا ہے
ما حاصل کلام یہ ہے کہ بارگاہ نبوی میں استعمال ہونے والے الفاظ میں اولا تو معنی دیکھا جائے گا کہ آیا اس کا معنی تعظیمی ہے یا نہیں اور دوم خاص طور سے یہ دیکھا جائے کہ اس کے استعمال سے لوگوں کے ذہن میں اچھا خیال آتا ہے یا برا خیال یعنی اس لفظ کو اچھا سمجھا جاتا ہے یا برا اگر برا سمجھا جائے اور معنی بھی برا ہو تب تو ہر حال میں بارگاہ نبوی میں اس کا استعمال حرام ہے اور اگر معنی تو اچھا ہو مگر عموام اس لفظ کو اچھا نا سمجھتی ہو تب بھی اس کا استعمال جائز نہیں اور اگر معنی برا ہے لیکن بولا اچھے کے لیئے جاتا ہے تب بھی استعمال جائز نہیں.
واللہ تعالیٰ اعلم
از صہیب رضا رزمی


1 تبصرے
*__________سوال ترجیحات کا ہے !!*
جواب دیںحذف کریںمحمد حسین امجدی
حالیہ مناظرہ الحاد کی شہرت کے باعث اہل علم اور سنجیدہ افراد کے مابین اس موضوع کی جانب یکایک رجحان بڑھا۔اس عنوان پر لکھی گئی کتابیں، بیانات اور اس میدان میں کام کر رہے اہل علم کے تعارف پر زور دینے کی باتیں بھی سامنے آئیں۔ان ساری باتوں کا ہونا فطری تھا کہ مناظرہ جاوید اختر جیسے حد درجہ مشہور انسان سے تھا جس کے باعث سنیما، میڈیا، سیاست اور سماجیات سے وابستہ افراد میں بھی اس کے متعلق دل چسپی اور چرچا رہی اور ہنوز جاری ہے۔
علما کے مابین بھی اسے لیکر خوب چرچا ہے۔مختلف نظریات ہیں۔جداگانہ رائے ہیں اور الگ الگ مشورے ہیں۔
ہم کسی بحث میں نہ پڑتے ہوئے صرف اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ معاملہ مذہبی اعتقاد کے تحفظ کا ہو کہ مسلکی نظریات کے تشخص کا، اصل مدا ہماری ترجیحات اور ہماری فکر کا ہے۔جب تک ترجیحات اور فکری زاویہ درست نہیں ہوگا تب تک یوں ہی دوسروں کی طے کردہ پالیسی پر گردش کرتے رہیں گے، خود سے کسی چیز کا تعین اور حصول نہیں کر پائیں گے۔
*_________ضرورت اور ترجیحات*
ملکی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس وقت ہمارے ضروریات کی فہرست کچھ اس طرح ہے:
1۔آسام اور اتراکھنڈ کے بعد مدارس اسلامیہ کے بند ہونے کے شدید خدشات
2۔وقف ترمیمی بل کی وجہ سے ہزاروں مساجد کے چھن جانے کے خطرات
3۔اتراکھنڈ کے بعد دیگر ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی تیاریاں
4۔مسلم علاقوں میں بلڈوزر کاروائی کا نہ رکنے والا سلسلہ
5۔لڑکیوں کا بڑھتا ارتداد
6۔غیر مسلم علاقوں میں مسلم کاروباریوں کے ساتھ مارپیٹ اور قتل کے بڑھتے واقعات
7۔شعائر اسلام پر علانیہ اعتراضات
8۔حب الوطنی کے نام پر جبریہ شرک اختیار کرنے کی مہم
9۔اسکولوں میں شرکیہ رسومات کا بڑھتا دائرہ
10۔مذہبی معاملات پر بڑھتی ہوئی قانونی پابندیاں
اس کے علاوہ اور بھی کئی اہم معاملات ہیں جو ہمارے لیے سب سے زیادہ ضروری ہیں۔ان تمام امور کے حد درجہ ضروری ہونے کے باوجود ہماری ترجیحات کا عالم یہ ہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے ہمارے فضلا "اے زہرا کے بابا" میں مشغول ہیں۔جماعت کے کئی اچھے دماغوں کو ہم نے اسی میں مصروف کر رکھا ہے۔بیٹیوں کے نقاب کھینچے جارہے ہیں۔ بزرگوں کی داڑھیاں کھینچی جا رہی ہیں۔نوجوانوں کو سر عام قتل کیا جارہا ہے اور ہم لوگ جلسوں میں شاعروں پر پیسہ اڑا رہے ہیں۔لایعنی باتوں پر ایک دوسرے کے خلاف تال ٹھونک رہے ہیں۔لنگر کے نام پر پیٹوں کا حجم اور سائز بڑھا رہے ہیں۔بلڈوز ہوتے مزاروں، گرتے مناروں اور پامال ہوتی عزتوں کو دیکھ کر بھی اندھے، گونگے اور بہرے بنے ہوئے ہیں۔
*________نعرے اور نمائندگی*
ہمارا دعویٰ اور نعرہ ہے کہ ہم امت کا سواد اعظم ہیں۔یقیناً ایسا ہے بھی، لیکن بات صرف نعرے ہی پر ختم ہو جاتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔بات نعرے سے بڑھ کر نمائندگی تک جاتی ہے اور یہاں ہم کمزور پڑ جاتے ہیں۔گذشتہ چند ماہ کے کچھ مسائل پر ہماری نمائندگی سے آپ اس کمزوری کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
🔹اتراکھنڈ میں گذشتہ دو سال میں تقریباً چھ سو (600) مزارات شہید اور 200 سے زائد مدرسے بند کئے گیے۔اس معاملے پر ہائی کورٹ/سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جمیعۃ علماے ہند نے،ہماری نمائندگی کہیں دکھائی نہیں دی۔
🔸ماہ رواں مسلمانوں سے بھی وندے ماترم کو پڑھوانے کی مہم چلی، اس کے خلاف دیوبندی مکتب کے دو نمائندہ چہروں نے آواز بلند کی۔ہماری نمائندگی صفر رہی۔
🔹اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کو قانونی طور پر اسمبلی کے ذریعے ختم کیا گیا۔اس کے خلاف بھی ہماری نمائندگی نظر نہیں آئی۔
🔸اتراکھنڈ میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کر دیا گیا۔اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اغیار کھڑے ہیں۔ہم منظر نامہ سے غائب۔
🔹وقف ترمیمی بِل کے خلاف سب سے مؤثر آواز ہماری نہیں دوسروں کی رہی۔
🔸بریلی شریف میں ہوئے تصادم کے خلاف بھی ہم کوئی خاص آواز نہیں اٹھا پائے۔
یہ وہ چنندہ معاملات ہیں جو براہ راست قوم مسلم سے وابستہ ہیں۔ان کے نفع ونقصان سے ملت کا نفع نقصان جڑا ہے، لیکن اتنے اہم اور حساس مسائل پر ہم بہ حیثیت سواد اعظم اپنی نمائندگی درج نہیں کرا پائے جس کی بنیاد پر ہمارے ایک بڑے طبقے تک یہ مسیج گیا کہ ہمیں امت کے مسائل سے کوئی دل چسپی نہیں ہے۔اس میسج کا اندازہ آپ کسی بھی انسان سے بات کرکے لگا سکتے ہیں۔اگر وقت رہتے ہم نے اس کی سنگینی کو محسوس کرکے اس کا تدارک نہیں کیا تو ہمیں اس کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
(جاری)
6رجب المرجب 1447ھ